Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسجد عائشہ سے بغیر احرام حیض کی حالت میں حرم میں داخل ہونا
- Fatwa no.
- 12741-Nor
Question
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہندہ حالت حیض میں حرم مکہ سے مسجد عائشہ تک گئی پھر احرام کی نیت کے بغیر ہی دوبارہ حرم میں واپس آگئی کیونکہ اس کا عمرہ کرنے کا ارادہ نہ تھا۔ تو کیا اس صورت میں ہندہ پر کوئی کفارہ لازم ہو گا ؟
Answer (beginning)
جی نہیں ! پوچھی گئی صورت میں ہندہ پر کوئی کفارہ لازم نہیں ہو گا، کیونکہ مسجد عائشہ حل میں ہے اور حل سے حرم آتے وقت اگر کسی شخص کا عمرہ یا حج کا ارادہ نہ ہو تو وہ بلا احرام بھی حدود حرم میں داخل ہو سکتا ہے ، اس صورت میں اس پر عمرہ یا حج کر نالازم نہیں ہو گا۔ چنانچہ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: " (حل لاهل داخلها) يعنى لكل من وجد في داخل المواقيت (دخول مكة غير محرم) مالم يرد نسکا ترجمہ : داخل میقات شخص یعنی ہر وہ شخص جو میقات کے اندر موجود ہو، اس شخص کے لئے بغیر احرام کے مکہ میں داخل ہونا، جائز ہے بشر طیکہ اس کا حج یا عمرہ کرنے کا ارادہ نہ ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.