Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز میں قراءت کرتے ہوئے تشدید چھوڑدینے کا حکم
- Fatwa no.
- 12610-Nor
- Issued
- 25 جمادی الاولی 1444ھ / 20دسمبر 2022 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نمازی "تبتْ يَدَا بِي لَهَبٍ وَتَبَّ " میں " وَ تَبَ " کی با کو وقف کی صورت میں بغیر تشدید کے پڑھے تو نماز کا کیا حکم ہو گا؟
Answer (beginning)
فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق تشدید کو ترک کرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی لہذا پو چھی گئی صورت میں اس نمازی کی نماز فاسد نہیں ہو گی۔ چنانچہ فتاوی عالمگیری، فتاوی قاضی خان، فتاوی شامی اور خلاصۃ الفتاوی و غیرہ کتب فقہیہ میں مذکور ہے: " والنظم للاول“(ومنهاترك التشديد والمدفي موضعهما) لوترك التشديد في قوله " إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ " أو قرأ " الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ " وأسقط التشديد على الباء۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.