Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اگر مذی خارج ہوجائے تو اسے دھوئے بغیر نماز پڑھ سکتے ہیں؟
- Fatwa no.
- 12693-Nor
- Issued
- 02 رجب المرجب 1444ھ / 25 جنوری 2023ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مذی خارج ہو تو اسے دھوئے بغیر نماز پڑھ سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
مدی نجس اور نواقض وضو میں سے ہے ، بدن یا کپڑوں کے جس حصے پر مذی کے قطرے لگیں وہ حصہ بھی ناپاک ہو گا۔ نیز طہارت نماز کی بنیادی شرائط میں سے ایک شرط ہے بغیر طہارت کے نماز سرے سے ادا ہی نہیں ہوتی، بلکہ بعض صورتوں میں بغیر طہارت نماز پڑھنے کو فقہاء نے کفر بھی قرار دیا ہے۔ اگر کسی شخص نے مذی خارج ہونے کے بعد وضو تو کر لیا مگر اس بدی کو صاف نہ کیا تو اب اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر مذی جسم یا کپڑے پر ایک درہم کی مقدار سے بھی زائد لگی ہو تو اس صورت میں نماز ہی نہیں ہو گی، اگر درہم کے برابر لگی ہو تو نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہو گی، ان دونوں صورتوں میں اسے دھوئے بغیر جان بوجھ کر اسی حالت میں نماز…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.