Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اگر کمپنی حج کروا دے تو کیا ملازم کا فرض حج ادا ہو جائیگا؟
- Fatwa no.
- 12685-Nor
- Issued
- 28 جمادی الثانی 1444ھ / 21 جنوری 2023ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کوئی کمپنی اپنے ملازم کو حج کروادے، تو کیا اس ملازم کا فرض حج ادا ہو جائے گا جبکہ اس پر حج فرض ہی نہ ہوا ہو ؟ اور اگر حج فرض ہو چکا ہو، تو کیا حکم ہو گا؟
Answer (beginning)
ملازم پر حج فرض ہو ا ہو یا نہ ہو، بہر صورت کمپنی کی طرف سے ملنے والی سہولت پر جب اس نے حج ادا کر لیا، تو اس کا فرض حج ادا ہو جائے گا بشر طیکہ وہ حج اس نے فرض حج یا مطلق حج کی نیت سے ادا کیا ہو۔ ہاں ! اگر اس نے یہ حج خاص نفلی حج کی نیت سے ادا کیا، تو اس صورت میں اس کا حج فرض ادا نہ ہو گا، بلکہ حج فرض ہونے کی تمام شرائط پائی جانے کی صورت میں اس پر دوبارہ حج کرنا فرض ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.