Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
فرض پڑھنے کے بعد بھولے سے دوبارہ شروع کردیے اور یاد آنے پر نماز فوراً توڑدی، کیا اس صورت میں گناہ ہوگا؟
- Fatwa no.
- 12675-Nor
- Issued
- 23 جمادی الاخرى 1444ھ / 16 جنوری 2023ء
Question
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہندہ نے تین رکعت مغرب کے فرض کی نیت باندھ لی پھر اسے یاد آیا کہ وہ فرض تو پڑھ چکی ہے ، اب تو اس نے سنتیں پڑھنی ہیں، لہذا اس نے یاد آتے ہی وہ نماز توڑ دی۔ آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا اس صورت میں ہندہ پر اس نماز کی قضا لازم ہوگی ؟ کیا وہ نماز توڑنے پر گنہگار ہو گی ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں چونکہ ہندہ نے یاد آتے ہی فوراً اس نماز کو توڑ دیا تھا، لہذا اس پر کسی قسم کی قضا یا تو بہ لازم نہیں۔ چنانچہ ردالمحتار میں ہے: ” في المنح إذا ظن أنه لم يصل فرضا فشرع فيه فتذكر أنه قد صلاه صار مشرع فيه نفلا لا يجب إتمامه، حتى لو نقضه لا يجب القضاء وفي الصغرى:هذا إذا أفسد الصوم النفل في الحال، أما إذا اختار المضي ثم أفسده فعليه القضاء قال: وهكذا في الصلاة كذافي المجتبی اھ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.