Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بیوی کو چھونے یا اس کا بوسہ لینےسے وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟
- Fatwa no.
- 12544:Nor
- Issued
- 22 ربیع الثانی 1444ھ /18 نومبر 2022ء
Question
ہے؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا اپنی بیوی کو چھونے یا اس کا بوسہ لینے سے وضو ٹوٹ جاتا
Answer (beginning)
بیوی کو چھونے یا اس کا بوسہ لینے سے وضو نہیں ٹوٹتا چاہے، یہ چھونا یا بوسہ لینا شہوت کے ساتھ ہو یا بغیر شہوت کے ، ہاں اگر چھونے یا بوسہ لینے سے مذی نکل آئی تو وضو ٹوٹ جائے گا اور اگر شہوت کے ساتھ منی نکلی تو غسل لازم ہوگا۔ عورت کو چھو نا وضو کو نہیں توڑ تا خواہ شہوت کے ساتھ ہو یا بغیر شہوت کے ، جیسا کہ البحر الرائق میں ہے: ”مس بشرة المرأة لا ينقض الوضوء مطلقا سواء كان بشهوة او لا یعنی عورت کے جسم کو چھو نا مطلقا وضو کو نہیں توڑتا خواہ شہوت کے ساتھ چھوا ہو یا بغیر شہوت کے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.