Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا صرف پانچ تولہ سونے پر زکوة فرض ہوگی؟
- Fatwa no.
- 12655-Nor
- Issued
- 12 جمادی الثانی 1444ھ /05 جنوری 2023ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی شخص کے پاس صرف پانچ تولہ سوناہو ، جو اس نے بیچنے کی نیت سے خریدا ہو ، لیکن اس سونے کے علاوہ اموال زکوۃ میں سے کوئی مال نہ ہو ، تو کیا اس پر زکوۃ لازم ہو گی جبکہ اس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت سے بہت زیادہ ہے۔
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں جبکہ ملکیت میں صرف پانچ تولہ سونا ہے اور اس کے علاوہ اموال زکوۃ (مثلاً، چاندی، کرنسی نوٹ، پرائز بانڈ، مالِ تجارت، کسی کو دیا ہوا قرض) میں سے کوئی مالِ زکوۃ نہیں، تو صرف پانچ تولہ سونے پر زکوۃ لازم نہیں ہو گی اگرچہ خاص تجارت کی نیت سے خریدا گیا ہو اور اس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی سے زائد ہو۔ زکوۃ لازم نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ خود سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ ہے جبکہ پوچھی گئی صورت میں سونا نصاب سے کم ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ جب اموال زکوۃ نصاب سے کم ہوں تو ان کو ملانے کی صورت بنتی ہے لیکن یہاں ایسا ہے ہی نہیں کہ اموال زکوۃ میں سے صرف ایک ہی مال ہے اور وہ بھی نصاب سے کم ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.