Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جس عورت سے زنا کیا پھر اسی عورت سے نکاح کرنا
- Fatwa no.
- 12632-Nor
- Issued
- 04 جمادی الثانی 1444ھ /28دسمبر 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی لڑکا کسی لڑکی کے ساتھ پہلے زنا کرے اور پھر اسی لڑکی سے اس کا نکاح ہو جائے ، تو کیا اس طرح ان کا نکاح ہو جائے گا ؟
Answer (beginning)
زنا کرنا اور کروانا، گناہ، ناجائز و حرام اور جہنم کا مستحق بنانے والا، بے حیائی پر مشتمل کام ہے۔ زنا کرنے والے مرد اور زنا کر وانے والی عورت دونوں پر سچے دل سے اللہ پاک کی بارگاہ میں تو بہ کر نالازم ہے، جہاں تک نکاح کا سوال ہے، تو اگر چہ ان دونوں نے شادی سے پہلے آپس میں زنا کیا، لیکن اس کے بعد شرعی تقاضوں کے مطابق ان کا آپس میں نکاح ہو گیا، تو یہ نکاح جائز ہے اور نکاح ہو جانے کے بعد ان دونوں کا آپس میں میاں بیوی کی طرح رہنا بھی شرعی طور پر حلال ہے، ماضی میں جو زنا ہوا، اس سے ان کے اس نکاح پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.