Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اگر غریبوں کو گوشت تقسیم نہ کیا تو قربانی ہوجائے گی؟
- Fatwa no.
- 126200-Nor
- Issued
- 28 جمادی الاولی 1444ھ / 23دسمبر 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص قربانی کرے، لیکن غریبوں کو حصہ نہ بانٹے تو اس کی قربانی ہو جائے گی یا نہیں ؟ اور کیا صدقہ نہ کرنے کی وجہ سے وہ شخص گناہ گار ہو گا؟
Answer (beginning)
جس جانور کی قربانی جائز ہو ، قربانی کے دنوں میں اس جانور کو ذبح کر کے اس کا خون بہاناقر بانی کہلاتا ہے ، ذبح کرنے کے بعد اس کے گوشت کے کچھ حصہ کو صدقہ کرنا ایک مستحب عمل ہے، لہذا اگر کوئی جانور ذبح کرنے کے بعد اس کا گوشت بالکل صدقہ نہ کرے، تو بھی اس کی قربانی ادا ہو جائے گی، وہ گناہ گار نہیں ہو گا، لیکن قربانی کا گوشت صدقہ کرنے پر جو ثواب اسے حاصل ہو نا تھا، وہ اسے حاصل نہ ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.