Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
فرض غسل میں بھولے سے کوئی عضو دھلنے سے رہ جائے تو غسل اور پڑھی گئی نماز کا کیا حکم ہوگا؟
- Fatwa no.
- 12624-Nor
Question
(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص فرض غسل میں کسی عضو کو دھونا بھول گیا اور فجر کی نماز پڑھ لی، بعد میں اسے یاد آیا تو کیا اب اسے دوبارہ سے پورا غسل کرنا ہو گا؟ یا پھر اسی عضو کو دھو لینا کافی ہو گا۔ نیز جو نماز فجر پڑھی اس کا کیا حکم ہوگا؟
Answer (beginning)
نماز کی شرائط میں سے ایک بنیادی شرط طہارت ہے، اس کے بغیر نماز ادا ہی نہیں ہوتی ، لہذا پوچھی گئی صورت میں جبکہ ایک عضو د ھلنے سے رہ گیا تھا تو طہارت حاصل نہیں ہوئی جس کی بناپر وہ نماز فجر سرے سے اداہی نہیں ہوئی، پس اس شخص پر لازم ہے کہ پاکی حاصل کرنے کے بعد اس نماز فجر کی قضا ادا کرے۔ البتہ اب نئے سرے سے پورا غسل کرناضروری نہیں بلکہ جو عضود ھونا بھول گیا تھا، اس عضو کو دھو لینا ہی کافی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.