Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

احتلام والے کپڑے پہن کر غسل کرنا کیسا؟

Fatwa no.
12598:Nor
Issued
20 جمادی الاولی 1444ھ /15دسمبر 2022ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جن کپڑوں میں احتلام ہوا، ان ہی کپڑوں کو پہنے ہوئے غسل کر لیا، تو کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

جن کپڑوں میں احتلام کے ساتھ غسل فرض ہوا ان ہی کپڑوں کو پہن کر غسل کیا اور اتنا پانی بہایا جس سے غالب گمان ہو گیا کہ پانی کپڑے اور بدن پر لگنے والی نجاست حقیقیہ ( یعنی منی) کو بہا کر لے گیا ہو گا، تو اس صورت میں کپڑے اور بدن نجاست حقیقیہ سے پاک ہو گئے اور غسل کرتے ہوئے مکمل احتیاط کے ساتھ اس کے تمام فرائض ( یعنی کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا اور ظاہر بدن پر اس طرح پانی بہانا کہ بال برابر بھی کوئی جگہ خشک باقی نہ رہے ) صحیح طور پر ادا کئے ، تو غنسل ادا ہو گیا اور بدن نجاست حکمیہ (یعنی جنابت) سے بھی پاک ہو گیا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.