Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسافر امام کا پوری نماز پڑھانا کیسا ہے ؟
- Fatwa no.
- 12564-Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسافر امام نے مقیم مقتدیوں کی جماعت کرائی اور ظہر کی نماز میں مکمل چار رکعات پڑھا دیں اور آخر میں سجدۂ سہو بھی نہیں کیا، بھول کر یا جان بوجھ کر ایسا کیا، تو دونوں صورتوں میں امام اور مقتدیوں کی نماز کا کیا حکم ہو گا ؟ سائل : اختر عطاری
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں مقتدیوں کی نماز باطل ہو گئی اور امام کی اپنی نماز واجب الاعادہ ہے۔ اس مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ امام نے جان بوجھ کر چار رکعات پڑھائیں یا بھولے سے پڑھائیں، بہر صورت مقتدیوں کے لئے حکم یہ ہے کہ ان کی نماز باطل ہو گئی، کیونکہ اقتداء کے صحیح ہونے کی ایک شرط یہ بھی ہے امام کی نماز مقتدیوں کی نماز کے مثل ہو یا اس سے اعلیٰ ہو ، اگر امام کی نماز مقتدیوں کی نماز سے کم ہو، اقتداء باطل قرار پاتی ہے امام نے جو تیسری اور چوتھی رکعت پڑھائی وہ نفل کے حکم میں تھی اور مقتدیوں کی نماز یعنی فرض سے ادنی درجے کی تھی لہذا مذ کورہ صورت میں مقیم مقتدیوں کی نماز باطل ہو گئی اور مقیم مقتدیوں پر اس…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.