Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا سو کر اٹھنے کے بعد استنجاء کرنا ضروری ہے؟

Fatwa no.
12582-Nor
Issued
11 جمادی الاولی 1444ھ /06دسمبر 2022ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا سو کر اٹھنے کے بعد نماز فجر کے لیے استنجاء کر ناضروری ہے؟ جبکہ استنجاء کی حاجت بھی نہ ہو۔ اور اگر کوئی بغیر استنجاء کیے فقط وضو کر کے ہی نماز پڑھ لے تو کیا اس کی وہ نماز ہو جائے گی؟

Answer (beginning)

شرعاً استنجاء سے مراد سبیلین (یعنی اگلے پچھلے مقام سے نکلنے والی نجاست کو دور کرنا ہے، اگر کسی شخص کو استنجاء کی حاجت ہی نہ ہو اور نہ ہی سیلین پر کوئی نجاست لگی ہوئی ہو، تو اس صورت میں بغیر استنجاء کیسے بھی بلا کراہت نماز ہو جائے گی۔ در مختار میں ہے : ” إزالة نجس عن سبيل فلا يسن من ريح و حصاة ونوم وفصد“ یعنی سبیلین سے نجاست کو دور کرنے کا نام استنجاء ہے لہذا ہوا خارج ہونے، کنکری نکلنے ، سو کر اٹھنے اور پچھنے لگوانے کے بعد استنجاء کرنا مسنون نہیں۔ (ونوم) کے تحت ردالمحتار میں ہے: ” لأنه ليس بنجس أيضاً “یعنی سو کر اٹھنے کے بعد استنجاء مسنون نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ نیند نجس نہیں ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.