Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نانی کی سگی بہن کو عمرہ پر ساتھ لیکر جانے کا حکم؟
- Fatwa no.
- 12572-Nor
- Issued
- 04 جمادی الاولی 1444ھ/29 نومبر 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کی نانی کی سگی بہن زید کے ساتھ عمرے پر جاسکتی ہے ؟ اس میں کوئی حرج والی بات تو نہیں۔
Answer (beginning)
زید کی نانی کی سگی بہن زید کی محرمہ ہے کہ وہ زید کے اصل بعید ( یعنی پر نانا) کی فرع قریب (یعنی بیٹی ) ہے ، اور فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق اصل بعید کی فرع قریب بھی محرمات میں داخل ہے۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر زید کے ساتھ سفر کرنے میں کوئی شرعی رکاوٹ نہ ہو تو وہ عورت زید کے ساتھ عمرے پر جاسکتی ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے: ﴿حَرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهُتُكُمْ وَ بَنْتُكُمْ وَ آخَوتُكُمْ وَ عَنتُكُمْ وَ خُلتُكُمْ ترجمه کنز الایمان : حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.