Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
زکوۃ فرض تھی مگر سونا بیچ دیا تو اب بھی فرض ہوگی؟
- Fatwa no.
- 12565-Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے سونے کی تین سال کی زکوۃ ادا نہیں کی پھر اس سونے کو بیچ کر اس کی ساری رقم خرچ کر ڈالی، تو کیا زید کے ذمہ اب بھی اس سونے کی زکوۃ فرض ہی رہے گی ؟ زید پہلے بھی صاحب نصاب تھا اور اب بھی صاحب نصاب ہی ہے اور زکوۃ اس پر فرض ہوتی ہے۔
Answer (beginning)
فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق زکوۃ واجب ہونے کے بعد مال کو ہلاک کر دینے سے زکوۃ ساقط نہیں ہوتی، لہذا پوچھی گئی صورت میں اس سونے کی زکوۃ بدستور زید پر فرض ہے، پس زید اپنے ذمہ پر لازم زکوۃ ادا کرے نیز بلا وجہ شرعی زکوۃ کی ادائیگی میں جو تاخیر ہوئی ہے اس گناہ سے تو بہ بھی کرے۔ فتاوی عالمگیری، فتاوی سراجیہ ، نہایہ وغیرہ کتب فقہیہ میں مذکور ہے : ”والنظم للاول“ وإن هلك المال بعد وجوب الزكاة سقطت الزكاة، وفي هلاك البعض يسقط بقدره هكذا في الهداية ولو استهلك النصاب لا يسقط هكذا في السراجیة۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.