Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

چھوٹے بچے کے منہ سے نکلنے والی رال پاک ہے یا ناپاک ؟

Fatwa no.
12563-Nor

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بچے کی رال اگر گرتی رہتی ہو اور وہ کپڑوں پر لگ جائے ، تو کیا اس صورت میں کپڑے ناپاک ہو جائیں گے ؟؟

Answer (beginning)

انسانی رال ناپاک نہیں کہ یہ تھوک سے بنتی ہے اور انسانی تھوک پاک ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں کپڑے ناپاک نہیں ہوں گے۔ جیسا کہ فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق سوتے آدمی کے منہ سے جو رال بہے اگر چہ پیٹ سے آئے اگر چہ بد بودار ہو ، پاک ہے۔ اس رال کے کپڑوں پر لگنے سے وہ کپڑے پاک ہی رہیں گے۔ انسان کا تھوک پاک ہے۔ جیسا کہ البحر الرائق، تبیین الحقائق، فتاوی شامی وغیرہ کتب فقہیہ میں مذکور ہے : ” والنظم للاول“ ( وسؤر الآدمي والفرس وما يؤكل لحمه طاهر) أما الآدمي؛ فلأن لعابه متولد من لحم طاهر، وإنما لا يؤكل لكرامته ولا فرق بين الجنب والطاهر والحائض والنفساء والصغير والكبير والمسلم والكافر والذكر والأنثی ،…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.