Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عذر کے سبب امام کا قعدے میں چوکڑی مار کر بیٹھنا کیسا؟

Fatwa no.
12527-Nor

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری ٹانگ کا مسئلہ ہے کہ میں قعدے میں دوزانو ہو کر نہیں بیٹھ سکتا لہذا میں قعدہ میں چوکڑی مار کر بیٹھتا ہوں۔ آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا میں اس صورت میں جماعت کروا سکتا ہوں؟

Answer (beginning)

دوران نماز، قعدہ میں بلا عذر شرعی چار زانو بیٹھنا مکروہ تنزیہی ہے کیونکہ اس میں سنت طریقے کا ترک ہے ، سنت طریقہ یہ ہے کہ الٹا پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھ جائے اور سیدھا پاؤں کھڑار کھے اور اس کی انگلیاں قبلہ رو ہوں۔ ہاں اگر عذر کے سبب نمازی چار زانو بیٹھتا ہے تو مکروہ نہیں۔ اس تفصیل سے واضح ہوا کہ پوچھی گئی صورت میں آپ کا قعدہ میں چوکڑی مار کر بیٹھنا شر عا مگر وہ نہیں، لہذا اگر آپ امامت کے اہل ہیں تو آپ جماعت کروا سکتے ہیں۔ بلا عذر شرعی نماز میں چوکڑی مار کر بیٹھنا مکروہ تنزیہی ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.