Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
امانت رکھوانے والے کا انتقال ہوجائے تو اس امانت کا کیا کیا جائے؟
- Fatwa no.
- 12560:Nor
- Issued
- 28 ربیع الثانی 1444ھ /24 نومبر 2022ء
Question
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری ایک خاتون رشتے دار نے ہمارے پاس تین ہزار روپے بطور امانت رکھوائے تھے ، لیکن یہ رقم واپس لینے سے پہلے اس خاتون کا انتقال ہو گیا اور وہ ر تم ہمارے پاس ویسے ہی موجود ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا ہم اس رقم کو صدقہ کر سکتے ہیں یا وہ رقم ان کے گھر والوں کو دینی ہو گی ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں جب آپ کی رشتے دار خاتون کا انتقال ہو چکا اور ان کی امانت رکھوائی ہوئی رقم آپ کے پاس موجود ہے، تو وہ رقم ان کے ورثاء کے حوالے کر دی جائے، اس رقم کو صدقہ نہیں کیا جاسکتا۔ درر الحکام میں ہے: ” تعطى الوديعة عند وفاة المودع لوارثه او لوصيه وللوارث ان يطلب الوديعة من المستودع وان يدعى بها لان الوارث قائم مقام المورث یعنی امانت رکھوانے والے کی وفات کے بعد امانت اس کے وراث یا اس کے وصی کو دی جائے گی اور وارث کو یہ حق حاصل ہے کہ جس کے پاس امانت رکھی ہو اس سے امانت کا مطالبہ کرے اور اس کا دعوی کرے، کیونکہ وارث مورث کے قائم مقام ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.