Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جنبی (جس پر غسل فرض ہو اس) کے ذبح کئے گئے جانور کا کیا حکم ہے

Fatwa no.
12552:Nor
Issued
26 ربیع الثانی 1444ھ /22 نومبر 2022 ء

Question

(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جانور ذبح کرنے والا شخص ناپاک ہو اور وہ اسی حالت میں جانور ( مثلاً: گائے، بھینس، بکری وغیرہ) ذبح کر دے، تو کیا وہ جانور حلال ہو گا ؟

Answer (beginning)

جانور ذبح کرنے کے لئے ذبح کرنے والے کا پاک ہو ناضروری نہیں، لہذا اگر کوئی شخص ذبح کرنا جانتا ہے اور وہ ناپاکی کی حالت میں کسی جانور (مثلاً : گائے، بھینس، بکری وغیرہ) کو ذبح کر دیتا ہے، تو وہ جانور حلال ہو گا۔ النتف في الفتاوی میں ہے : ” ان ذبح كل مسلم حلال رجلا کان او انثی حراکان او عبدا جنبا كان او طاهرا یعنی ہر مسلمان کا ذبح کیا ہوا جانور حلال ہے خواہ ذبح کرنے والا مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام، جنبی (اس پر غسل فرض) ہو یا پاک ہو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.