Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شوہر طلاق دے لیکن بیوی کو طلاق کا علم نہ ہو تو کیا طلاق واقع ہوجائے گی؟
- Fatwa no.
- 12549-Nor
- Issued
- 25 ربیع الثانی 1444ھ /21 نومبر 2022 ء
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر شوہر اپنی بیوی کی غیر موجودگی میں اسے زبانی طور پر طلاق دے اور بیوی کو معلوم نہ ہو ، تو طلاق واقع ہو گی یا نہیں ؟
Answer (beginning)
شریعت نے طلاق کا اختیار شوہر کو دیا ہے اور شوہر اپنی بیوی کو طلاق دینے کے معاملے میں منفر دو مستقل ہے، اس لئے طلاق واقع ہونے کے لئے عورت کا موجود ہونا، اسے طلاق کا علم ہو نا یا اس کا طلاق کے الفاظ سننا کچھ ضروری نہیں ۔ لہذا جب بھی شوہر اپنی بیوی کے لئے طلاق کے الفاظ اتنی آواز سے کہے جو خود شوہر کے کان تک پہنچنے کے قابل ہوں ، تو طلاق واقع ہو جائے گی خواہ بیوی وہاں موجود نہ ہو یا بیوی نے طلاق کے الفاظ نہ سنے ہوں یا بیوی کو شوہر کے طلاق دینے کا علم نہ ہو۔ قرآن پاک میں اللہ رب العالمین کا فرمان ہے : ” الَّذِي بِيَدِ عُقدَةُ النحات ترجمہ کنز الایمان : جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.