Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا زوال کے وقت قرآن پاک پڑھنا جائز ہے؟

Fatwa no.
12505-Nor
Issued
02 ، بی الثانی 1444ھ / 29 اکتوبر 2022 ء

Question

(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زوال کے وقت قرآن پاک پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ اگر جائز نہیں تو اس وقت میں کیا کیا پڑھنا جائز ہے؟

Answer (beginning)

فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق مکروہ اوقات میں قرآن مجید کی تلاوت کرنا بہتر نہیں، بہتر یہ ہے کہ ان اوقات میں ذکر واذکار میں مشغول رہا جائے۔ بحر الرائق، حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح، در مختار وغیرہ میں ہے : ” و النظم للاول“ القرأة ركن الصلوة و هي مكروهة فالاولی ترک ماکان رکنالها یعنی نماز ان اوقات میں مکروہ ہے اور نماز کا ایک رکن قراءت بھی ہے اس لئے جو نماز کار کن ہے اسے بھی ان اوقات میں ترک کر دینا ہی بہتر ہے۔(بحرالرائق، کتاب الصلوۃ، ج 01، ص 437، مطبوعہ کوئٹه) بہار شریعت میں ہے : ”ان اوقات میں تلاوت قرآن مجید بہتر نہیں، بہتر یہ ہے کہ ذکر و درود میں مشغول 66 رہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.