Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
صاحب ترتیب نے وتر کی قضا یاد ہوتے ہوئے فجر کے فرض پڑھ لیے تو کیا حکم ہے؟
- Fatwa no.
- 12495-Nor
- Issued
- 27 ربیع الاول 1444ھ /24اکتوبر 2022ء
Question
(دعوت اسلامی) صاحب ترتیب قضاو تر یاد ہوتے ہوئے فجر کے فرض پڑھ لے تو کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق صاحب ترتیب کے لیے فرض نماز اور وتر کے مابین ترتیب قائم رکھنا بھی ضروری ہے ، لہذا اگر صاحب ترتیب قضاو تر یاد ہوتے ہوئے فجر کے فرض ادا کر لے تو اس کی وہ نماز فجر ادا نہیں ہو گی بشر طیکہ وقت میں گنجائش موجود ہو۔ فرض نماز اور وتر کے مابین ترتیب قائم رکھنا ضروری ہے۔ جیسا کہ مجمع الا نھر میں ہے: ” (الترتیب بین الفائتة ) فرضاً او واجباً (والوقتية بين الفوائت شرط یعنی فوت ہونے والے فرض یا واجب اور وقتی نماز کے درمیان یو نہی فوت ہو جانے والی نمازوں کے درمیان ترتیب قائم رکھنا شرط ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.