Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نمازِ ظہر میں سلام پھیرنے سے پہلے وقت ختم ہوجائے تو نماز کا کیا حکم ہے؟

Fatwa no.
12488-Nor
Issued
24 ربیع الاول 1444ھ/21اکتوبر 2022ء

Question

دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے ظہر کی نماز وقت کے اندر پڑھناشروع کی لیکن اس کے سلام پھیرنے سے پہلے ہی ظہر کا وقت ختم ہو چکا تھا۔ تو کیا اس صورت میں اس کی وہ ظہر کی نماز ادا ہو گئی؟

Answer (beginning)

فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق فجر ، جمعہ اور عیدین کے علاوہ دیگر نمازوں میں اگر نمازی وقت کے اندر تکبیر تحریمہ کہہ لے ، تو اس کی وہ نماز ادا ہو جائے گی، لہذا پوچھی گئی صورت میں اس شخص کی وہ ظہر کی نماز ادا ہو گئی، اُسے لوٹانے کی حاجت نہیں۔ دوران نماز ا گر وقت ختم ہو جائے، تو وہ نماز فاسد نہیں ہو گی۔ چنانچہ مجمع الانہر، در مختار میں ہے: ” والنظم للاول“لوشرع في الوقتية عند الضيق ثم خرج الوقت في خلالهالم تفسد “ترجمہ : ”اگر تنگ (یعنی آخری) وقت میں وقتی نماز شروع کی پھر نماز کے دوران وقت ختم ہو گیا، تو وہ نماز فاسد نہیں ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.