Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وتر میں دعائے قنوت کے کچھ الفاظ بھولے سے رہ جائیں تو کیا حکم ہے

Fatwa no.
12508-Nor
Issued
04 ربیع الثانی 1444ھ / 31اکتوبر 2022 ء

Question

دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے دعائے قنوت یاد کی ہے، مگر جب میں وتر کی نماز ادا کرتا ہوں، تو اکثر اس میں سے یہ الفاظ (و نسجد و الیک نسعی) بھول جاتا ہوں، میں بہت کوشش کرتا ہوں ،لیکن پھر بھی یہ الفاظ رہ جاتے ہیں۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ ان الفاظ کے بھول جانے پر سجدہ سہو کر ناضروری ہے یا ویسے ہی نماز ہو جائے گی ؟

Answer (beginning)

وتر میں دعائے قنوت پڑھنا واجب ہے اور اس سے مراد مطلق دعا ہے جو قلیل و کثیر سب کو شامل ہے، لہذا مشہور دعائے قنوت پڑھی لیکن اس کے کچھ الفاظ ( و نسجد والیک نسعی) پڑھنے سے رہ گئے ، تو اس صورت میں بھی واجب ادا ہو جائے گا اور سجدہ سہو لازم ہوئے بغیر نماز درست ہو جائے گی، البتہ دعائے قنوت یاد کرنے کی مزید کوشش جاری رکھی جائے تاکہ وتر میں مکمل دعائے قنوت پڑھنا ممکن ہو سکے کہ اگر چہ بعض دعائے قنوت سے بھی واجب ادا ہو جائے گا، لیکن دعائے قنوت کو مکمل پڑھنا مستحب ومندوب ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.