Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچہ پیدا ہونے پر اہل محلہ میں مٹھائی تقسیم کرنے کی منت مانی ہو تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
- Fatwa no.
- 12480-Nor
Question
دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہندہ نے منت مانی کہ اگر میرے ہاں بچہ پیدا ہوا تو اس کے وزن کے برابر مٹھائی رشتہ داروں اور اہل محلہ میں تقسیم کروں گی۔ ہندہ کے ہاں بچہ پیدا ہو کر کچھ دن بعد فوت ہو گیا، معلوم یہ کرنا ہے کہ اب ہندہ کے لیے کیا حکم شرعی ہو گا؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں ہندہ نے جو منت مانی تھی، یہ شرعی منت نہیں، لہذا اس منت کا پورا کر نا ہندہ پر لازم نہیں۔ فتاوی عالمگیری میں منت شرعی کے بارے میں ہے : " أن النذر لا يصح إلا بشروط أحدها أن يكون الواجب من جنسه شرعا فلذلك لم يصح النذر بعيادة المريض “ یعنی منت چند شرائط کے ساتھ درست ہوتی ہے ، ان میں سے ایک شرط یہ ہے کہ جس چیز کی منت مانی ہے ، وہ واجب کی جنس سے ہو ، اسی لیے مریض کی عیادت کرنے کی منت مانناشر عا درست نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.