Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز کا وقت کم ہو تو کیا صاحب ترتیب پچھلی قضا پڑھے گا ؟
- Fatwa no.
- 12479-Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید صاحب ترتیب (جس پر وتر کے علاوہ چھ نمازوں کی قضا لازم نہ ہو) کی نماز فجر قضا ہوئی، اب ظہر کی نماز میں اتنا کم وقت رہ گیا ہے کہ زید اگر نماز فجر پڑھتا ہے تو اس کی ظہر کی نماز بھی قضا ہو جائے گی، اس صورت میں زید کے لیے کیا حکم ہو گا؟
Answer (beginning)
فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق وقت اتنا تنگ ہو جائے کہ وقتی نماز کے فوت ہونے کا خوف ہو تو ترتیب ساقط ہو جاتی ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں زید صاحب ترتیب کے لیے حکم شرع یہ ہے کہ وہ ظہر کی نماز وقت کے اندر ادا کرے، اس کے بعد فجر کی قضا نماز ادا کرے۔ چنانچہ ہدایہ ، بحر الرائق، فتاوی شامی وغیرہ کتب فقہیہ میں مذکور ہے : ” والنظم للاول“ (ولوخاف فوت الوقت يقدم الوقتية ثم يقضيها ) لأن الترتيب يسقط بضيق الوقت “ یعنی اگر وقتی نماز فوت ہونے کا خوف ہو تو صاحب ترتیب شخص وقتی نماز کو مقدم کرے اس کے بعد قضا نماز ادا کرے کیونکہ وقت تنگ ہو جانے سے ترتیب ساقط ہو جاتی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.