Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مقتدی قعدہ اولیٰ میں تشہد کے بعد قصداً درود پاک پڑھے تو کیا حکم ہے؟
- Fatwa no.
- 12471-Nor
- Issued
- 15 ربیع الاول 1444ھ / 12 اکتوبر 2022 ء
Question
دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قعدہ اولی میں مقتدی اگر قصد أتشہد کے بعد درود شریف پڑھتا ہے، تو کیا اس مقتدی کی نماز بھی واجب الاعادہ ہو گی ؟؟ حوالے کے ساتھ رہنمائی فرما دیں۔
Answer (beginning)
نماز کے واجبات میں سے کسی بھی واجب کو قصد اترک کرنے سے نماز واجب الاعادہ ہو جاتی ہے ، اس مسئلے میں منفر د اور مقتدی کی کوئی تخصیص نہیں، قعدہ اولی میں تشہد کے بعد درود پاک نہ پڑھنا واجب ہے اور اللهُمَّ صَلِّ عَلَى محمد تک پڑھنے پر ترک واجب ثابت ہو جاتا ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں بلاشبہ اس مقتدی کی وہ نماز واجب الاعادہ ہو جائے گی۔ نماز کے کسی واجب کو عمد اُچھوڑ دینے کے حوالے سے فتاوی شامی میں مذکور ہے: ”(ولھا واجبات لا تفسد بترکها و تعاد وجوباً فى العمد ای بترك هذه الواجبات او واحد منھا یعنی نماز میں کچھ واجبات ہیں جن کے ترک کرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی، البتہ ان واجبات کو یا ان میں سے کسی ایک…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.