Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز کے اول وقت میں مقیم اور آخری وقت میں مسافر ہو تو نماز کس طرح پڑھے ؟

Fatwa no.
12823-Nor

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید اپنے گھر سے ظہر کا وقت شروع ہونے کے بعد نماز ظہر ادا کیے بغیر ہی شرعی سفر کے لیے نکلا، ابھی زید مطلوبہ شہر پہنچنے کے قریب تھا کہ رستے میں ظہر کے آخری وقت میں زید نے وہ نماز ظہر قصر ادا کی۔ آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا زید کی وہ نماز ظہر درست ادا ہوئی ہے؟

Answer (beginning)

جی ہاں! پوچھی گئی صورت میں زید کی وہ نماز ظہر درست ادا ہوئی ہے۔ تفصیل اس مسئلے کی یہ ہے کہ جب کسی منزل کے لئے شرعی مسافت یعنی تقریبابانوے کلومیٹر کا سفر ہو تو مسافر اپنے شہر کی شرعی حدود (شہر کی آبادی اور اس شہر سے متصل فنائے شہر سے نکلنے کے بعد ، اور دوسرے شہر کی شرعی حدود میں داخل ہونے سے پہلے تک ، راستے بھر قصر نماز ادا کرے گا۔ اگر اس دوسرے شہر میں اس کا قیام پندرہ دن سے کم ہو تو وہاں بھی وہ قصر نماز ہی ادا کرے گا۔ یادر ہے کہ نماز میں قصر کرنا مسافر پر واجب ہے یعنی مسافر چار رکعت والے فرض مثلاً ظہر ، عصر اور عشاء کو دور کعت پڑھے گا کہ اس کے حق میں دور کعتیں ہی پوری نماز ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

Appears in topics

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.