Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اگر حج فرض ہونے کے بعد مال ختم ہوگیا تو حج کا حکم؟

Fatwa no.
12375-Nor

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج سے تقریبا آٹھ ، دس سال پہلے ایک عورت کی ملکیت میں اتنی مالیت کا سونا (Gold) موجود تھا کہ وہ محرم کے ساتھ حج پر جاسکتی تھی، لیکن کوئی بھی محرم اس کے ساتھ جانے کے لئے تیار نہ ہوا، پھر وہ سونا سال بہ سال زکاۃ دینے، قربانی کرنے اور دیگر اخراجات کی وجہ سے کم ہو گیا اور حج بھی مہنگا ہو گیا ہے ، اب اس عورت کے پاس حج کرنے کے اسباب نہیں ہیں۔ اس صورت میں اس عورت کے لئے کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

سفر حج کے لئے محرم یا شوہر کا ہو نا وجوب حج کی شرائط سے نہیں، بلکہ شرائط پائے جانے پر حج فرض ہو جانے کے بعد اس کی ادائیگی واجب ہونے کی شرائط میں سے ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں فرضیت حج کی دیگر شرائط پائے جانے کے ساتھ جب اس عورت کی ملکیت میں اتنا مال موجود تھا کہ وہ خود حج کر سکتی تھی، لیکن محرم کے ساتھ نہ جانے کی وجہ سے حج ادا نہیں کر سکی تو اس پر حج فرض ہو چکا تھا، لیکن ادائیگی واجب ہونے کی صورت نہیں پائی گئی، اس عورت پر اب بھی حج فرض ہے ، مال کم ہونے یا ہلاک ہونے کی وجہ سے فرض ہو جانے والا حج ساقط نہیں ہو گا، البتہ جب تک ساتھ جانے کے لئے کوئی محرم نہیں ملتا، انتظار کرے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.