Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دل میں نیت کرنے سے منت ہو جاتی ہے؟
- Fatwa no.
- 12438-Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا منت ماننے میں منہ سے بولنا ضروری ہے ؟ یا پھر دل میں ارادہ کر لینے سے بھی منت لازم ہو جاتی ہے ؟
Answer (beginning)
منت لازم ہونے کے مخصوص الفاظ ہیں، جب کوئی شخص ان الفاظ کا تلفظ کرے تو دیگر تمام شرائط پائی جانے کی صورت میں منت لازم ہو جاتی ہے ، فقط دل میں ارادہ کر لینے سے منت لازم نہیں ہوتی۔ چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے: ركن النذر هو الصيغة الدالة عليه وهو قوله: "الله عز شأنه علي كذا، أو علي كذا، أو هذا هدي، أو صدقة، أو مالي صدقة، أو ما أملك صدقة، ونحو ذلک۔ “ یعنی منت کار کن وہ صیغہ ہے جو اس پر دلالت کرے، جیسا کہ کوئی شخص یہ کہے کہ اللہ عزوجل کے لیے مجھ پر یہ چیز لازم ہے یا مجھ پر فلاں چیز لازم ہے یا یہ چیز ہدیہ یا صدقہ ہے یا میرے لیے صدقہ نکالنالازم ہے یا جو میری ملک میں ہے وہ صدقہ ہے اسی کی مثل دیگر…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.