Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بھولے سے ایک آیت کو دو یا تین مرتبہ پڑھ لینے سے سجدہ سہو واجب ہوجائے گا؟
- Fatwa no.
- 12309-Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دورانِ نماز قراءت کرتے ہوئے کسی سورت کی کوئی آیت بھول جائیں تو یاد کرنے کی غرض سے ایک ہی آیت کو دویا تین مرتبہ پڑھ کر پھر اس سورت کو مکمل کیا جائے جبکہ اس دوران نمازی کا خاموش ہونا یا ایک رکن کا توقف بھی نہ پایا جائے، تو کیا آیت کی تکرار کر لینے سے سجدہ سہو لازم ہو جائے گا؟ کیا اس صورت میں وہ نماز درست ادا ہو گی ؟
Answer (beginning)
جی ہاں ! پوچھی گئی صورت میں وہ نماز درست ادا ہو گی اور سجدہ سہو کی بھی حاجت نہیں، کیونکہ نماز میں سجدہ سہو اس وقت واجب ہوتا ہے جب نمازی بھولے سے کسی واجب کو ترک کرے، جبکہ یہاں نمازی نے ایسی کسی غلطی کا ار تکاب نہیں کیا جس سے اس پر سجدہ سہو واجب ہو۔ کسی ایک آیت کی تکرار کر لینے سے سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا۔ جیسا کہ سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ امام نے جمعہ میں ایک آیت پڑھی، بسبب بھول جانے کے اُس کو دوسری بار پڑھ کر دوسری آیتوں کی طرف منتقل کیا ایسی صورت میں نماز مکروہ تحریمی یا تنزیہی یا جائز بلا کراہت یا سجدہ لازم ہے یا نہیں ؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.