Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ناپاک شخص اگر مسجد چلا جائے تو اب اس گناہ کا ازالہ کیسے کرے؟
- Fatwa no.
- 12423-Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص ناپاکی کی حالت میں مسجد چلا گیا تو اب اس کے لیے کیا حکم ہے ؟ اس گناہ کا ازالہ وہ کیسے کرے؟
Answer (beginning)
بلا ضرورت شرعیہ ناپاکی کی حالت میں مسجد میں داخل ہونا، ناجائز و حرام ہے، لہذا جس سے یہ گناہ سر زد ہوا ہے اس پر لازم ہے کہ سچے دل سے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں تو بہ کرے اور آئندہ اس معاملے میں احتیاط سے کام لے۔ البتہ اس گناہ کے ازالے کے لیے شریعت نے توبہ کے علاوہ الگ سے کوئی کفارہ بیان نہیں کیا۔ ہاں ! اگر کوئی شخص تو بہ کے بعد صدقہ و خیرات کر دے تو یہ چیزیں تو بہ میں معاون و مددگار بنتی ہیں۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: ” ( ومنها) أنه يحرم عليهما وعلى الجنب الدخول في المسجد سواء كان للجلوس أو للعبور، هكذا في منية المصلي. وفي التهذيب: لا تدخل الحائض مسجد الجماعة.
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.