Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زکوۃ میں ملی رقم پر سال گزرنے پر زکوۃ ہوگی؟

Fatwa no.
12379-Nor

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید مستحق زکو ہو، اس کے بھائی نے ڈالر کی صورت میں اسے زکوۃ کی رقم بطور ملکیت دی ہو جس میں سے کچھ رقم زید نے خرچ کر دی ہو جبکہ باقی رقم کو زید نے کسی صحیح وقت کے انتظار کے لیے رکھ دیا ہو۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اگر وہ رقم سال بھر زید کی ملکیت میں رہتی ہے تو کیا زید پر زکوۃ میں حاصل شدہ اس رقم پر زکوۃ نکالنا فرض ہے ؟؟ ر ہنمائی فرمائیں۔

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اگر یہ رقم قرض اور حاجت اصلیہ سے فارغ ہو کر نصاب کے برابر پہنچتی ہے ، تو نصاب کا ہجری سال مکمل ہونے پر اس رقم کی زکوۃ نکالنابلا شبہ زید پر فرض ہو گا۔ کہ زید کا صحیح وقت کے انتظار کے لیے اس رقم کو ر کھ لینا، یونہی اس رقم کاز کوۃ میں وصول ہونا، یہ چیزیں فرضیت زکوۃ سے مانع نہیں۔ اصل اعتبار غنی ہونے اور زکوۃ کی دیگر شرائط پائے جانے کا ہے۔ زکوۃ نصاب کا ہجری سال مکمل ہونے پر فرض ہوتی ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.