Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ایک وقت کی قضا نماز کو دوسرے وقت میں ادا کرنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 12353-Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی وقت کی مثلاً ظہر کی نماز قضا ہو جائے، تو کیا اسے عصر کے وقت میں ادا کر سکتے ہیں یا پھر اس قضا نماز کو اگلے دن ظہر کے وقت میں ہی ادا کر ناضروری ہو گا؟؟ رہنمائی فرمائیں۔
Answer (beginning)
قضا نمازوں کی ادائیگی کا کوئی وقت معین نہیں، اوقات مگر وہہ (یعنی طلوع و غروب اور زوال کے وقت) کے علاوہ پورے دن میں کسی بھی وقت میں قضا نماز ادا کی جاسکتی ہے بلکہ حتی الامکان قضا نماز کو جلد ادا کیا جائے کہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں، لہذا اس پوری تفصیل سے واضح ہوا کہ ظہر کی قضا نماز کو عصر کے وقت میں بھی ادا کر سکتے ہیں۔ یہاں ضمناً یہ مسئلہ بھی ذہن نشین رہے کہ جو شخص صاحب ترتیب ہو اس کے احکام جد اہیں کہ اسے وقتی نماز سے پہلے پچھلی قضا نماز کو ادا کر ناضروری ہوتا ہے، جس کی مکمل تفصیل کتب فقہ میں مذکور ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.