Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ظہر، مغرب اور عشاء کے فرض کے بعد 4 رکعات ایک سلام سے ادا کرنے پر سنت و نفل کا حکم

Fatwa no.
12338-Nor

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ظہر کے فرض کے بعد والی دو سنتوں کو پڑھتے ہوئے نمازی قعدہ اخیرہ کے بعد سلام پھیرنے کے بجائے بھولے سے کھڑ ا ہو جائے اور یاد آنے پر مزید دو رکعت ملا کر آخر میں سجدہ سہو کر کے نماز مکمل کرے، تو کیا اس صورت میں انہی چار رکعات سے اس کی سنت مؤکدہ اور نفل نماز ادا ہو جائے گی ؟ رہنمائی فرمائیں۔

Answer (beginning)

اگر کوئی شخص ظہر ، مغرب اور عشاء کے فرائض کے بعد چار رکعات ایک ہی سلام سے ادا کر لے ، تو مختار قول کے مطابق انہیں چار رکعات سے اس کی سنتیں اور نوافل ادا ہو جائیں گے ، لہذا صورتِ مسئولہ میں انہی چار رکعات سے سنت مؤکدہ اور نفل نماز دونوں ادا ہو جائیں گی۔ ایک ہی سلام سے سنتِ مؤکدہ اور نوافل ادا ہونے کے حوالے سے در مختار میں ہے: ”هل تحسب المؤكدة من المستحب ويؤدى الكل بتسليمة واحدة؟ اختار الكمال: نعم “ یعنی مستحب رکعتیں ادا کرتے ہوئے مؤکدہ بھی شمار ہوں گی ؟ جبکہ ایک ہی سلام کے ساتھ تمام رکعتیں ادا کی جائیں۔ علامہ کمال ابن ہمام علیہ الرحمہ نے فرمایا ہاں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.