Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نمازی کو دورانِ قراءت کسی مقدس مقام کی سوچ آجائے، تو نماز کا کیا حکم ہے؟

Fatwa no.
12327-Nor

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر نمازی کو دورانِ قراءت کسی مقدس مقام مثل مکہ ، مدینہ کی سوچ آجائے جس بنا پر وہ چند سیکنڈ کے لیے خاموش ہو جائے، جبکہ اس نے ابھی واجب کی مقدار قراءت مکمل نہ کی ہو، تو کیا اس صورت میں اس نمازی پر سجدہ سہو لازم ہو گا ؟؟ رہنمائی فرمائیں۔

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں تفکر اور سوچ اگر سہو یعنی بلا قصد تھی اور کم از کم ایک رکن یعنی تین بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار تک نمازی خاموش رہا تو سجدہ سہو سے تلافی ہوگی، ورنہ اگر یہ سوچ قصد آ تھی تو اب واجب میں تاخیر پائی جانے کی وجہ سے اس نماز کا اعادہ کرناضروری ہو گا۔ نماز میں سوچنے سے کس صورت میں سجدہ سہو واجب ہوتا ہے ؟ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے علامہ شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ” الاصل فی التفکر انه ان منعه عن اداء ركن كقراءة آية او ثلاث اور کوع اوسجود او او عن اداء واجب كالقعود يلزمه السهولاستلزام ذلک ترک الواجب وهو الاتيان بالركن او الواجب في محله وان لم يمنعه عن شيء من ذلك بان كان يودى…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.