Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
غسلِ جنابت سے پہلے وضو کرنے کا حکم
- Fatwa no.
- 12330-Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ غسل جنابت سے پہلے وضو کر ناسنتِ مؤکدہ ہے یا غیر مؤكده؟
Answer (beginning)
غسل جنابت سے پہلے وضو کر نا سنتِ مستحبہ ہے ، سنتِ مؤکدہ نہیں ہے۔ بخاری شریف میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، فرمایا: ” ان النبی صلی الله عليه وسلم كان اذا اغتسل من الجنابة بدا فغسل يديه ثم توضا كما يتوضا للصلاة ثم يدخل اصابعه في الماء فيخلل بها اصول الشعر ثم يصب على راسه ثلاث غرف بيده ثم يفيض الماء على جلده کله “ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت سے غسل فرماتے ، تو سب سے پہلے اپنے ہاتھوں کو دھوتے، پھر نماز جیباوضو فرماتے ، پھر اپنی انگلیاں پانی میں ڈالتے اور ان کے ذریعہ بالوں کی جڑوں میں پانی پہنچاتے ، پھر تین چلو پانی اپنے سر پر بہاتے پھر پورے جسم پر پانی…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.