Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا بالغ ہونے کے بعد گذشتہ سالوں کا فطرہ دینا ہوگا؟

Fatwa no.
12323-Nor

Question

دارالافتاءابلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نابالغ بچے کا گزرے ہوئے سالوں کا فطرہ اس کے سر پرست نے ادا نہ کیا ہو، تو کیا بالغ ہونے کے بعد ان سالوں کا فطرہ نکالنا اس نابالغ پر واجب ہو گا؟؟ ر ہنمائی فرمائیں۔

Answer (beginning)

نابالغ بچہ اگر صاحب نصاب ہو اور اس کا سر پرست اس کا فطرہ ادانہ کرے تو اس صورت میں بالغ ہونے کے بعد ان گزشتہ سالوں کا فطرہ اب اسی بچے پر لازم ہو گا۔ اور اگر نابالغ خود صاحب نصاب نہیں تھا تو بالغ ہونے کے بعد اس پر ایسے صدقہ کی ادائیگی واجب نہیں۔ چنانچہ در مختار میں ہے: ”لولم يخرجها وليهما وجب الأداء بعد البلوغ یعنی اگر نابالغ اور مجنون کے ولی “ نے ان کا فطرہ ادا نہ کیا تو بالغ ہونے کے بعد فطرے کی ادائیگی خود ان پر واجب ہو گی۔ (لولم یخرجھاولیھما) کے تحت علامہ شامی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں: ”أي من مالھما۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.