Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
غیبت کے گناہ سے توبہ کا طریقہ
- Fatwa no.
- 12313-Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید دوسروں کی غیبت کر تا رہا ہے اب اسے اس گناہ کا احساس ہوا ہے اور وہ اس گناہ سے تو بہ کرنا چاہتا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید نے جن لوگوں کی غیبت کی ہے، کیا ان لوگوں سے معافی مانگنا بھی زید کے لیے ضروری ہے ؟ یا فقط تو بہ کر لینا کافی ہے ؟؟رہنمائی فرمائیں۔
Answer (beginning)
کسی شخص کے پوشیدہ عیب کو برائی کے طور پر ذکر کرنا غیبت ہے اور بلا حاجت شرعی کسی بھی مسلمان کی غیبت کرنا سخت ناجائز و حرام ہے قرآن وحدیث میں اس کی سخت وعیدیں بیان ہوئی ہیں، یہاں تک کہ قرآن مجید میں غیبت کرنے کو اپنے مردہ بھائی کے گوشت کھانے سے تشبیہ دی گئی ہے پس اس گناہ سے بچنا ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے۔ لہذا پو چھی گئی صورت میں زید پر لازم ہے کہ صدقِ دل سے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اس گناہ سے تو بہ کرے اور آئندہ اس گناہ سے باز رہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.