Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دن میں سفر شروع کرنے پر روزہ چھوڑنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 12318-Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی شخص کی عرب شریف کی روانگی ہو اور تقریبادن بارہ بجے کی اس کی فلائٹ ہو، تو کیا اس صورت میں اسے اس دن کا روزہ چھوڑنے کی اجازت ہو گی ؟ جبکہ لمبے سفر کے باعث طبیعت پر اثر پڑنے اور قے ہونے کا بھی اندیشہ ہو ؟؟ رہنمائی فرمائیں۔
Answer (beginning)
اگر کوئی شخص صبح صادق کے وقت مسافر شرعی نہ ہو بلکہ اسے دن میں سفر کرنا ہو تو یہ سفر آج کے دن کاروزہ چھوڑنے کے لیے عذر نہیں بنے گا، اس دن کا روزہ رکھنا فرض ہو گا۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں اس سفر کی وجہ سے ، یونہی بیان کردہ خدشات کی بنا پر ، چھوٹی موٹی طبیعت کی خرابی کے سبب اس دن کا روزہ چھوڑنے کی ہر گز اجازت نہیں جب تک کہ مرض کی وہ کیفیت ثابت نہ ہو جائے جس کو شریعت نے روزہ توڑنے یا نہ رکھنے کو رخصت قرار دیا ہے۔ سفر شرعی روزہ چھوڑنے کے لیے کب عذر نہیں بنے گا؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.