Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دورانِ وضو ریح خارج ہوجائے تو کیا حکم ہے؟
- Fatwa no.
- 12290-Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر وضو کے دوران اندرونی گیس یعنی ریح نکل جائے، تو کیا اس صورت میں اس شخص کا وضو ٹوٹ جائے گا؟ اور اسے نئے سرے سے وضو کرنا ہو گا؟؟ رہنمائی فرمائیں۔
Answer (beginning)
در میان وضو اگر وضو توڑنے والی کوئی چیز پائی جائے تو اس صورت میں نئے سرے سے وضو کرناضروری ہو جاتا ہے کہ وہ پہلے دھلے ہوئے اعضاء بے دھلے ہو گئے ان اعضاء کی طہارت باطل ہو گئی۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں بھی دورانِ وضور یح نکل جانے سے اس شخص کے وہ دھلے ہوئے اعضاء بے دھلے ہو گئے جس کی وجہ سے نئے سرے سے اعضائے وضو دھوئے۔ در مختار میں ہے: ”و شرط صحتها صدور الطهر من اهله في محله مع فقد مانعه “ یعنی طہارت درست ہونے کی شرط یہ ہے کہ وہ طہارت اس کے اہل سے اپنی جگہ پر واقع ہوئی ہو اور کوئی مانع طہارت چیز بھی نہ پائی گئی ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.