Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بیوہ کے پاس ڈھائی تولہ سونا ہو تو اسکا زکوۃ لینا کیسا؟
- Answered by
- مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 12275-Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بیوہ عورت ہے اسکا کوئی کمانے والا نہیں ہے اور نہ ہی اس کے بیٹا ہے ، اس کے پاس اپنا ذاتی مکان بھی نہیں ہے۔ البتہ اس بیوہ کی ملکیت میں ڈھائی تولہ سونا موجود ہے جو کہ اس کی حاجت اور قرض سے زائد ہے، اس کے علاوہ اس کے پاس چاندی یا کوئی رقم وغیرہ نہیں ہے کہ جس سے وہ اپنی ضروریات پوری کر سکے۔ مفتی صاحب آپ سے دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس صورت میں کیاز کوۃ کی رقم سے اس بیوہ کی مدد کی جاسکتی ہے ؟؟ رہنمائی فرمادیں۔
Answer (beginning)
شریعت مطہرہ نے زکوۃ وصول کرنے کے لیے ایک مالی معیار مقرر کیا ہے جس میں حکمت یہ ہے کہ ان لوگوں کی مدد ہو سکے جو انتہائی غربت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ مستحق زکوۃ (شرعی فقیر) ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ شخص ہاشمی یاسید نہ ہو ، اور نصاب کا مالک بھی نہ ہو یعنی قرض اور حاجت اصلیہ میں مشغول تمام اموال کو نکال کر اس کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت برابر کوئی سامان، رقم وغیرہ موجود نہ ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.