Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غسل کے دوران کچھ چھینٹیں بالٹی میں چلی جائیں، تو کیا اس پانی سے غسل درست ہوگا؟؟

Fatwa no.
12295-Nor

Question

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) غسل کے دوران کچھ چھینٹیں بالٹی میں چلی جائیں، تو کیا اس پانی سے غسل درست ہو گا؟؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اگر تو جسم کے کسی حصے پر ناپاکی لگی ہوئی ہو (مثلا مذی یا منی وغیرہ کے قطرے لگے تھے) اور اسے صاف کیے بغیر ہی غسل کرناشروع کر دیا جائے پھر اس جگہ سے ناپاک چھینٹیں اڑ کر بالٹی میں گریں تو اس صورت میں وہ بالٹی والا ساری پانی ناپاک ہو جائے گا اور وضو اور غسل کے قابل نہیں رہے گا کیونکہ قلیل پانی میں نجاست کا ایک قطرہ بھی گر جائے تو وہ سارا پانی ناپاک ہو جاتا ہے۔ بہر حال اس معاملے میں سخت احتیاط کی حاجت ہے کہ غسل سے پہلے جسم پر لگی ناپاکی کو اچھی طرح دور کر لیا جائے تاکہ نجاست کے حوالے سے کسی پریشانی کا سامنانہ کرنا پڑے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.