Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا استحاضہ کا خون رک جانے کی صورت میں غسل فرض ہوتا ہے
- Fatwa no.
- 12337 :Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا استحاضہ کا خون رک جانے کی صورت میں غسل کرنا ضروری ہے؟
Answer (beginning)
استحاضہ کے احکام حیض و نفاس کے احکام کی طرح نہیں، بلکہ استحاضہ کو حدث اصغر شمار کیا جاتا ہے یعنی اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور اگر استحاضہ والی عورت معذور شرعی کے حکم میں ہے تو تب بھی عذر ختم ہونے پر رخصت ختم ہو جائے گی اور اب نماز پڑھنے کے لئے وضو ضروری ہو گا، لیکن استحاضہ چونکہ غسل کو لازم نہیں کرتا اس لئے غسل کرنا ضروری نہیں۔ البتہ کوئی غسل ٹھنڈ یا بویا پسینہ دور کرنے کے لئے غسل کرنا چاہے، تو کوئی ممانعت نہیں بلکہ اس موقع پر فقہاء نے غسل کرنا مستحب لکھا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.