Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
رکوع یا سجود میں التحیات پڑھنا کیسا
- Fatwa no.
- 12312 .No
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی نے سجدہ میں بھولے سے التحیات پڑھ لی، تو نماز کا کیا حکم ہے ، سجدۂ سہو لازم ہوا یا نہیں؟
Answer (beginning)
چونکہ تشہد ثنا ہے اور سجدہ محل ثنا، اس لئے اگر سجدہ میں التحیات پڑھ لی، تو اس صورت میں نماز ہو گئی اور سجدہ سہو بھی لازم نہیں ہوا۔ ملتقی الا بحر و مجمع الا نھر میں ہے: واللفظ فى الهلالين للملتقى: "(ان تشهد فی القیام اوالرکوع او السجود لا يجب) لانه ثناء وهذه المواضع محل للثناء “ یعنی اگر قیام، رکوع یا سجود میں تشہد پڑھا، تو سجدہ سہو واجب نہیں، کیونکہ تشہد ثنا ہے اور یہ تینوں جگہیں ثنا کا محل ہیں۔ (مجمع الانهر، جلد 1، صفحه 221، مطبوعه: کوئٹہ) تبیین الحقائق و حلبی کبیری میں ہے: واللفظ للحلبى: "تشهد قائما اوراكعااوساجدالاسهوعلیه کذافی المختار۔۔۔۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.