Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تحری کرکے پڑھی گئی نماز کو کیا بعد میں دہرانا بھی ہوگا ؟
- Fatwa no.
- 12278-Nor
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص ایسی کسی جگہ ہو کہ جہاں قبلے کی سمت اسے معلوم نہ ہو سکے اور نہ ہی وہاں قابل اعتماد لوگ موجود ہوں کہ جن سے قبلہ کی سمت کا پتہ چل سکے۔ تو ایسی صورت حال میں جہاں اس کا دل جمے کہ اس طرف قبلہ ہو گا اس سمت وہ رخ کر کے نماز ادا کر لے تو کیا اس کی وہ نماز درست ادا ہو گی یا پھر گھر جا کر اسے وہ نماز لوٹانا ہو گی ؟؟ رہنمائی فرما دیں۔
Answer (beginning)
نماز میں استقبال قبلہ ایک بنیادی شرط ہے اور شرط کے بغیر نماز ہونا تو دور کی بات سرے سے نماز شروع ہی نہیں ہوتی، لہذا ممکنہ صورت میں درست سمت قبلہ کا تعین کر کے اسی رخ پر نماز ادا کرناضروری ہے تاکہ نماز ضائع ہونے سے محفوظ رہے مثلاً جسے کمپاس، قبلہ نما اور دیگر ایسے ہی معتمد آلات کے ذریعے سے قبلہ معلوم کرنا آتا ہو تو وہ ان ذرائع سے درست سمت قبلہ کا تعین کر کے، یونہی مسجد اور محراب کے ذریعے یا پھر کسی مستند شخص سے معلوم کر کے حتی الامکان درست سمت قبلہ کا تعین کر کے نماز کی ادائیگی کرے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.