Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا تراویح کی جگہ قضائے عمری ادا کرسکتے ہیں

Fatwa no.
12285-Nor

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر ہندہ اپنی قضا نمازیں پڑھنا چاہتی ہو ، تو کیار مضان میں تراویح کی جگہ وہ قضا نمازیں پڑھ سکتی ہے ؟؟ رہنمائی فرمائیں۔

Answer (beginning)

تراویح کی نماز ہر عاقل و بالغ مسلمان مرد و عورت پر سنتِ مؤکدہ ہے جس کا بلاوجہ شرعی ترک جائز نہیں۔ اور فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق قضائے عمری کی ادائیگی کے لیے تراویح اور پنج وقتہ نماز کی سنن مؤکدہ کو نہیں چھوڑ سکتے۔ تراویح کی نماز ہر مسلمان مردو عورت پر سنتِ مؤکدہ ہے۔ جیسا کہ در مختار میں ہے: ” (التراويح سنة) مؤكدة لمواظبة الخلفاء الراشدين (للرجال والنساء) اجماعاً “ یعنی تراویح کی نماز مرد و عورت پر بالا جماع سنتِ مؤکدہ ہے کہ خلفائے راشدین نے اس پر مواظبت فرمائی ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.