Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دکاندار کا کسٹمر کو سامان میں اضافہ کرکے دینا کیسا؟

Fatwa no.
12272-Nor

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دکاندار اگر اپنی مرضی سے سامان میں کچھ زیادتی کر دے، تو کیا وہ زیادتی میرے لیے حلال ہو گی ؟ مثلاً میں نے دکاندار سے 3 کلو چاول خریدے اب دکاندار بجائے 3 کلو دینے چاول دینے کے اپنی مرضی سے مجھے 3 کلو 10 گرام چاول دیتا ہے یعنی 10 گرام زیادہ ، تو کیا یہ 10 گرام چاول میرے لئے حلال ہوں گے ؟؟ رہنمائی فرما دیں۔

Answer (beginning)

خریدار (Buyer) کا باہمی رضامندی (mutual understanding) سے چیز کی طے ہونے والی قیمت (Default price) میں اضافہ کرنا، یو نہی بیچنے والے (Seller) کا گاہگ (Customer) کو سامان(Goods) میں اضافہ کر کے دینا شرعاً جائز ہے۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ کے لیے وہ اضافی چاول لیتا حلال ہے، شرعا اس میں کوئی حرج والی بات نہیں۔ مختصر القدوری میں ہے: ”و یجوز للمشتري أن يزيد البائع في الثمن ويجوز للبائع أن يزيد في المبيع یعنی مشتری کا بائع کے لیے ثمن میں اضافہ کرنا شرعاً جائز ہے، یونہی بائع کا مشتری کے لئے مبیع میں اضافہ کرنا جائز ہے (مختصر القدوری، كتاب البيوع، ص 138، ضیاء العلوم، راولپنڈی) الاختیار لتعليل المختار…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.