Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اذان کے دوران کام کاج کرنا کیسا؟

Fatwa no.
12292-Nor

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اذان کے وقت بات چیت کر سکتے ہیں یا کوئی کام کاج کر سکتے ہیں ؟؟ رہنمائی فرمادیں۔

Answer (beginning)

فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق جب اذان اور اقامت ہو تو اتنی دیر کے لیے بندہ سلام، کلام، تمام کام کاج روک دے اور آذان کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ دورانِ تلاوت اگر اذان شروع ہو جائے تو تلاوت روک کر اذان کو سنے اور اس کا جواب دے۔ لہذا ممکنہ صورت میں اپنی گفتگو اور کام کاج وغیرہ روک کر زبان سے اذان کا جواب دینے کا پورا اہتمام کرنا چاہیے تا کہ احادیث مبارکہ میں وارد اس کے متعلق فضائل حاصل ہو سکیں۔ البتہ شرعی مسئلہ ذہن نشین رہے کہ زبان سے اذان کا جواب دینا مستحب ہے ،لہذا اگر کوئی شخص زبان سے اذان کا جواب نہ دے جب بھی وہ شخص گنہگار نہیں ہو گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.