Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غسل کے دوران مذی نکل جائے، تو کیا دوبارہ سے غسل کرنا ہوگا؟

Fatwa no.
12264-Nor

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دورانِ غسل اگر گندے خیالات آئے اور مذی کے کچھ قطرے نکل آئیں، تو کیا اس صورت میں دوبارہ سے غسل شروع کرناضروری ہو گا؟؟ رہنمائی فرما دیں۔

Answer (beginning)

یعنی جی نہیں! پوچھی گئی صورت میں نئے سرے سے دوبارہ غسل شروع کرنا کوئی ضروری نہیں کہ مذی نکلنے سے غسل فرض نہیں ہوتا۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ مذی نجس ہے اس کے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے نیز بدن یا کپڑوں کے جس حصے پر مذی کے قطرے لگیں اس حصے کو پاک کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ مذی نکلنے سے غسل فرض نہیں ہوتا۔ جیسا کہ فتاوی شامی میں ہے: ” لا يفرض الغسل عند خروج مذي“ مدی کے نکلنے سے غسل فرض نہیں ہوتا۔ (ردالمحتار مع الدر المختار، کتاب الطهارة، ج 01، ص 335، مطبوعہ کوئٹہ) بحر الرائق میں ہے: "لا يجب الغسل بإنزال المذي والودي والبول بالإجماع“ یعنی مذى، ودی اور پیشاب کے نکلنے پر بالا جماع غسل واجب نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.